لڑکی کے بالغ ہونے کے وقت تقریب منانا اور لڑکی کو ہدیے تحائف دینا
ہندوستان کے بعض علاقوں میں لڑکی کے بالغ ہونے کے وقت گل پوشی کی رسم منائی جاتی ہے، مختلف جگہوں پر یہ رسم مختلف طریقوں سے منائی جاتی ہے،
تمل زبان میں اس رسم کو
Manjal Neerattu Vizha
کہا جاتا ہے،
یہ رسم ماہواری کے نویں گیارہوں یا پندرہویں دن کی جاتی ہے،
لڑکی جب بالغ ہو جاتی ہے عورتوں کی ایک مخصوص تعداد جمع ہوکر لڑکی کو مخصوص طریقہ سے غسل کراتی ہے، لڑکی کو ایک کمرے تک محدود کردیا جاتا ہے سارے گھر میں گھومنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے، رشتہ دار جمع ہوتے ہیں لڑکی کی گل پوشی کی جاتی ہے، اسے ہدیے میں مختلف چیزیں جیسے زیوارات پیسے اور کپڑوں میں خاص طور سے ساڑیاں وغیرہ دی جاتی ہیں۔
یہ ایک درحقیقت ہندوانہ رسم ہے جو ہندوؤں سے مسلمان میں منتقل ہوگئی ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اسے منانی لگی ہے، یہاں تک کہ بعض ایسے گھرانوں میں بھی اس کا اہتمام کیا جانے لگا ہے جو بظاہر دین دار خیال کیے جاتے ہیں۔
چوں کہ یہ رسم بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے اس لیے اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ یہ ضروری ہیکہ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ وہ ہر گز اس طرح کی کسی رسم کو اپنے گھر میں نہ ہونے دیں۔
اسلام میں لڑکی کے بلوغیت کے وقت کی کوئی رسم یا تقریب وغیرہ نہیں ہے
لڑکی یا لڑکے کے ماں باپ پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوغ سے قبل ہی بچوں کو دینی احکامات سے روشناس کرائیں، تاکہ بالغ ہونے کے بعد وہ بسانی دین پر عمل پیرا ہوسکیں۔
Comments
Post a Comment