Posts

Are Three days of Tablighi Jama'at Mentioned in Quran and Hadith ?

🌹🌹🌹    Are Three days of Tablighi Jama'at mentioned in Quran and Hadith❓❓             Bayan by                        ✳✳✳               MAULANA               ILYAS              GHUMMAN               SAHEB                ✳✳✳ ➡ I was in karachi a young man met me and said : Tablighi people go to Jama'at for three days every month .it is not in Sharia at all .Neither in Quran nor in Hadith nor it was among Aslaf  I said don't give fatwa you have no authority to give fatwa you should ask we will reply you ▶▶ I said: These three days are in Quran and in Sahih Bukhari and Sahih Muslim  He became shocked and asked: Do these books have three days .??? I said:of course these books have these three ...

لڑکی کے بالغ ہونے کے وقت تقریب منانا اور لڑکی کو ہدیے تحائف دینا

ہندوستان کے بعض علاقوں میں لڑکی کے بالغ ہونے کے وقت گل پوشی کی رسم منائی جاتی ہے، مختلف جگہوں پر یہ رسم مختلف طریقوں سے منائی جاتی ہے، تمل زبان میں اس رسم کو  Manjal Neerattu Vizha کہا جاتا ہے، یہ رسم ماہواری کے نویں گیارہوں یا پندرہویں دن کی جاتی ہے، لڑکی جب بالغ ہو جاتی ہے عورتوں کی ایک مخصوص تعداد جمع ہوکر لڑکی کو مخصوص طریقہ سے غسل کراتی ہے، لڑکی کو ایک کمرے تک محدود کردیا جاتا ہے سارے گھر میں گھومنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے، رشتہ دار جمع ہوتے ہیں لڑکی کی گل پوشی کی جاتی ہے، اسے ہدیے میں مختلف چیزیں جیسے زیوارات پیسے اور کپڑوں میں خاص طور سے ساڑیاں وغیرہ دی جاتی ہیں۔ یہ ایک درحقیقت ہندوانہ رسم ہے جو ہندوؤں سے مسلمان میں منتقل ہوگئی ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اسے منانی لگی ہے، یہاں تک کہ بعض ایسے گھرانوں میں بھی اس کا اہتمام کیا جانے لگا ہے جو بظاہر دین دار خیال کیے جاتے ہیں۔ چوں کہ یہ رسم بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے اس لیے اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ یہ ضروری ہیکہ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ وہ ہر گز اس طرح کی کسی رسم کو اپنے گھر میں نہ ہونے دیں۔ اسلام میں...

قربانی کے جانور میں عقیقہ کا جواز

  یہ صرف احناف ہی نہیں بلکہ شوافع حضرات بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قربانی کے جانور میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے اس کی گنجائش ہے، چنانچہ حضرت امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  وَلَوْ وُلِدَ لَهُ وَلَدَانِ فَذَبَحَ عَنْهُمَا شَاةً لَمْ تَحْصُلْ الْعَقِيقَةُ وَلَوْ ذَبَحَ بَقَرَةً أَوْ بَدَنَةً عَنْ سَبْعَةِ أَوْلَادٍ أَوْ اشْتَرَكَ فِيهَا جَمَاعَةٌ جَازَ سَوَاءٌ أَرَادُوا كُلُّهُمْ الْعَقِيقَةَ أَوْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْعَقِيقَةَ وَبَعْضُهُمْ اللَّحْمَ كَمَا سَبَقَ فِي الْأُضْحِيَّةِ شرح المھذب باب العقیقہ ج 8 ص 426 یہی بات  احناف بھی کہتے ہیں:  قال ابن عابدين الحنفي في حاشيته في بيان جواز الاشتراك: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  قربانی کے بڑے جانور یعنی گائے، بیل، بھینس اور اونٹ میں چونکہ سات حصے ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے ...

نماز میں جمائی کا حکم؟

  کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز میں جب جمائی آئے تو کس طرح روکنی چاہئے ؟قیام میں کیسے اور دیگر ارکان میں کیسے ؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز میں جمائی آئے تو اولاً ہونٹ بند کرکے اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر پھر بھی نہ رکے تو قیام کے حالت میں دایاں ہاتھ اور دیگر حالتوں میں بایاں ہاٹھ منہ پر رکھ لینا چاہئے۔ دورانِ نماز بار بار جمائی لینا اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کرنا مکروہ ہے۔ ولا یتثاء ب في الصلاۃ … فإن غلب علیہ التثاؤب جعل یدہ علی فیہ؛ لما روي عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: إذا تثاء ب أحدکم فلیکظم ما استطاع، فإن لم یستطع فلیضع یدہ علی فیہ۔ (مسند أحمد ۸؍۴۲۸، کذا في بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا)ولہا آداب منہ إمساک فمہ عند التثاؤب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ فإن لم یقدر غطاہ بظہر یدہ الیسریٰ، وقیل بالیمنی لو قائما، وإلا فیسراہ۔ (درمختار / باب صفۃ الصلاۃ ۲؍۱۷۶ زکریا، بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا، مراقي الفلاح ۱؍۱۵۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ : احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ ۱۱؍۶؍۱۴۳۵ھ الجواب صحیح :شبیر احمد عف...

بڑی ‏مچھلی ‏کے ‏پیٹ ‏سے ‏اگر ‏چھوٹی ‏مچھکی ‏نکلے ‏تو ‏کھانے ‏کا ‏حکم

ایک بڑی مچھلی نے بہت ساری چھوٹی چھوٹی مچھلیاں کھالیں، اس کے بعد اس بڑى کے پیٹ کو چاک کر کے وہ تمام چھوٹی مچھلیاں نکال لیں،   اس بڑی مچھلی کے پیٹ سے جو مچھلی نکلی ہیں اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا کیا حکم ہے؟ اگر مردہ نکلی ہیں تو ان کا کیا حکم ہے؟ الجواب حامداًومصلیاً *جو مچھلی خودبخود موت سے مرکرپانی کی سطح پرآجا ئے وہ طافی ہے ،جس کا کھانا ممنوع ہے ،اگرمچھلی پانی کی قلت یاگرمی یاسردی یادوایااورکسی آفت سے مرجائے اس کا کھانا ممنوع نہیں،* ’’ولایحل حیوان مائی الاالسمک غیر الطافی علی وجہ الماء الذی مات حتف انفہ وہو مابطنہ من فوق فلوظہرہ من فوق فلیس بطاف فیؤکل کمایؤکل مافی بطن ومامات بحرالماء اوبردہ اوبربطہ فیہ اوالقاء شئی فموتہ بآفۃ،درمختارج۵؍ ص۱۹۵؍ ۔  فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم  حررہ العبد محمودغفرلہٗ دارالعلوم دیوبند ۲۴؍۷؍۹۴ھ؁ اس فتوے کی روشنی میں مچھلی کے پیٹ سے نکلنے والی مچھلیاں خواہ مری ہوں یا زندہ ان مچھلیوں کا کھانا جائز ہوگا  آفت سے مرنے والی مچھلی حلال ہے بشرطیکہ اس کا استحالہ نہ ہوا ہو یہ بھی آفتوں میں سے ہے بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو نگل جائے جواب از حضرت ...

Can you give interest amount as commission to agents?

Assalamualikum,can we give interest money as comission for agents who give jobs or get a seat in college. وعلیکم السلام No interest amount can not be given as commission to agents who provide job,. Interest amount must be given to poor. واللہ اعلم بالصواب کتبہ عیسی زاہد قاسمی

روایتِ ’’حرزِ ابی دجانہؓ ‘‘کی تحقیق

روایتِ ’’حرزِ ابی دجانہؓ   ‘‘کی تحقیق علامہ بیہقی  رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’ دلائل النبوۃ ‘‘ میں ’’حرزِ ابی دجانہؓ   ‘‘ کے نام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: حضرت ابودجانہ صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے جنات کی طرف سے ایذاء رسانی کی شکایت کی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت علی  کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوگئے اور جنات کی عجیب وغریب حالت دیکھی- جس کا ذکر اس روایت میں موجود ہے-، اس طرح وہ جنات کے شر سے محفوظ ہوگئے۔ اب لوگ جنات کے شر سے حفاظت کی غرض سے اس خط کو اپنے گھروں، دکانوں، وغیرہ میں رکھتے ہیں۔ ذیل میں اس بارے میں کلام ہے کہ کیا ’’دلائل النبوۃ‘‘ والی مذکورہ روایت (حرزِ ابی دجانہؓ) مطلقاً موضوع ہے؟ یا ’’دلائل النبوۃ‘‘ والی روایت کے علاوہ دیگر کتب میں دوسری سند سے مروی روایت موضوع ہے؟  واضح رہے کہ روایتِ حرز ابی دجانہؓ دو مختلف سندوں سے مروی ہے: ایک کو علامہ سیوطیv نے ’’اللأٓلی المصنوعۃ‘‘ میں موسیٰ نامی راوی کے طریق سے نقل کر کے اسے موضوع قرار دیا ہے، اور وہ تقریباً بالاتفاق موضوع ہے، اس روایت سے ب...