قربانی کے جانور میں عقیقہ کا جواز
یہ صرف احناف ہی نہیں بلکہ شوافع حضرات بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قربانی کے جانور میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے اس کی گنجائش ہے، چنانچہ حضرت امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَلَوْ وُلِدَ لَهُ وَلَدَانِ فَذَبَحَ عَنْهُمَا شَاةً لَمْ تَحْصُلْ الْعَقِيقَةُ وَلَوْ ذَبَحَ بَقَرَةً أَوْ بَدَنَةً عَنْ سَبْعَةِ أَوْلَادٍ أَوْ اشْتَرَكَ فِيهَا جَمَاعَةٌ جَازَ سَوَاءٌ أَرَادُوا كُلُّهُمْ الْعَقِيقَةَ أَوْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْعَقِيقَةَ وَبَعْضُهُمْ اللَّحْمَ كَمَا سَبَقَ فِي الْأُضْحِيَّةِ شرح المھذب باب العقیقہ ج 8 ص 426 یہی بات احناف بھی کہتے ہیں: قال ابن عابدين الحنفي في حاشيته في بيان جواز الاشتراك: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قربانی کے بڑے جانور یعنی گائے، بیل، بھینس اور اونٹ میں چونکہ سات حصے ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے ...