Posts

Showing posts from December, 2021

قربانی کے جانور میں عقیقہ کا جواز

  یہ صرف احناف ہی نہیں بلکہ شوافع حضرات بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قربانی کے جانور میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے اس کی گنجائش ہے، چنانچہ حضرت امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  وَلَوْ وُلِدَ لَهُ وَلَدَانِ فَذَبَحَ عَنْهُمَا شَاةً لَمْ تَحْصُلْ الْعَقِيقَةُ وَلَوْ ذَبَحَ بَقَرَةً أَوْ بَدَنَةً عَنْ سَبْعَةِ أَوْلَادٍ أَوْ اشْتَرَكَ فِيهَا جَمَاعَةٌ جَازَ سَوَاءٌ أَرَادُوا كُلُّهُمْ الْعَقِيقَةَ أَوْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْعَقِيقَةَ وَبَعْضُهُمْ اللَّحْمَ كَمَا سَبَقَ فِي الْأُضْحِيَّةِ شرح المھذب باب العقیقہ ج 8 ص 426 یہی بات  احناف بھی کہتے ہیں:  قال ابن عابدين الحنفي في حاشيته في بيان جواز الاشتراك: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  قربانی کے بڑے جانور یعنی گائے، بیل، بھینس اور اونٹ میں چونکہ سات حصے ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حدیبیہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے ...

نماز میں جمائی کا حکم؟

  کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز میں جب جمائی آئے تو کس طرح روکنی چاہئے ؟قیام میں کیسے اور دیگر ارکان میں کیسے ؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز میں جمائی آئے تو اولاً ہونٹ بند کرکے اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر پھر بھی نہ رکے تو قیام کے حالت میں دایاں ہاتھ اور دیگر حالتوں میں بایاں ہاٹھ منہ پر رکھ لینا چاہئے۔ دورانِ نماز بار بار جمائی لینا اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کرنا مکروہ ہے۔ ولا یتثاء ب في الصلاۃ … فإن غلب علیہ التثاؤب جعل یدہ علی فیہ؛ لما روي عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: إذا تثاء ب أحدکم فلیکظم ما استطاع، فإن لم یستطع فلیضع یدہ علی فیہ۔ (مسند أحمد ۸؍۴۲۸، کذا في بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا)ولہا آداب منہ إمساک فمہ عند التثاؤب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ فإن لم یقدر غطاہ بظہر یدہ الیسریٰ، وقیل بالیمنی لو قائما، وإلا فیسراہ۔ (درمختار / باب صفۃ الصلاۃ ۲؍۱۷۶ زکریا، بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا، مراقي الفلاح ۱؍۱۵۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ : احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ ۱۱؍۶؍۱۴۳۵ھ الجواب صحیح :شبیر احمد عف...