روایتِ ’’حرزِ ابی دجانہؓ ‘‘کی تحقیق
روایتِ ’’حرزِ ابی دجانہؓ ‘‘کی تحقیق علامہ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’ دلائل النبوۃ ‘‘ میں ’’حرزِ ابی دجانہؓ ‘‘ کے نام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: حضرت ابودجانہ صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنات کی طرف سے ایذاء رسانی کی شکایت کی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوگئے اور جنات کی عجیب وغریب حالت دیکھی- جس کا ذکر اس روایت میں موجود ہے-، اس طرح وہ جنات کے شر سے محفوظ ہوگئے۔ اب لوگ جنات کے شر سے حفاظت کی غرض سے اس خط کو اپنے گھروں، دکانوں، وغیرہ میں رکھتے ہیں۔ ذیل میں اس بارے میں کلام ہے کہ کیا ’’دلائل النبوۃ‘‘ والی مذکورہ روایت (حرزِ ابی دجانہؓ) مطلقاً موضوع ہے؟ یا ’’دلائل النبوۃ‘‘ والی روایت کے علاوہ دیگر کتب میں دوسری سند سے مروی روایت موضوع ہے؟ واضح رہے کہ روایتِ حرز ابی دجانہؓ دو مختلف سندوں سے مروی ہے: ایک کو علامہ سیوطیv نے ’’اللأٓلی المصنوعۃ‘‘ میں موسیٰ نامی راوی کے طریق سے نقل کر کے اسے موضوع قرار دیا ہے، اور وہ تقریباً بالاتفاق موضوع ہے، اس روایت سے ب...