نماز میں جمائی کا حکم؟
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز میں جب جمائی آئے تو کس طرح روکنی چاہئے ؟قیام میں کیسے اور دیگر ارکان میں کیسے ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز میں جمائی آئے تو اولاً ہونٹ بند کرکے اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر پھر بھی نہ رکے تو قیام کے حالت میں دایاں ہاتھ اور دیگر حالتوں میں بایاں ہاٹھ منہ پر رکھ لینا چاہئے۔ دورانِ نماز بار بار جمائی لینا اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کرنا مکروہ ہے۔
ولا یتثاء ب في الصلاۃ … فإن غلب علیہ التثاؤب جعل یدہ علی فیہ؛ لما روي عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: إذا تثاء ب أحدکم فلیکظم ما استطاع، فإن لم یستطع فلیضع یدہ علی فیہ۔ (مسند أحمد ۸؍۴۲۸، کذا في بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا)ولہا آداب منہ إمساک فمہ عند التثاؤب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ فإن لم یقدر غطاہ بظہر یدہ الیسریٰ، وقیل بالیمنی لو قائما، وإلا فیسراہ۔ (درمختار / باب صفۃ الصلاۃ ۲؍۱۷۶ زکریا، بدائع الصنائع ۱؍۵۰۶ زکریا، مراقي الفلاح ۱؍۱۵۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ : احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ ۱۱؍۶؍۱۴۳۵ھ
الجواب صحیح :شبیر احمد عفا اللہ عنہ
Comments
Post a Comment